Media
ایک تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ میڈیا ملکی پالیسی سے مبرا ایک چیز ہے جو اس قدر آزاد، منہ پھٹ اور بے لگام ہے کہ ریاست اسے نکیل ڈالنے کی تگ و دو میں لگی رہتی ہے. یہ صریح غلط فہمی مزید ابھر کر اس وقت سامنے آئی جب فردوس عاشق اعوان کو جنرل (ر) عاصم باجوہ سے تبدیل کیا گیا. عوام کا ایک طبقہ سمجھتا ہے کہ یہ قدم دراصل اس لیے اٹھایا گیا ہے کہ میڈیا کو کنٹرول کیا جا سکے.
کسی بھی ملک کا میڈیا عموماً اور پاکستان جیسے ممالک کا میڈیا خصوصاً کبھی ریاستی فریم ورک سے باہر نہیں نکلتا. جس ملک میں شہریوں کو ہراساں کرنے سے لے کر انہیں غائب کرنا کوئی مسئلہ ہی نہ ہو، وہاں کون سا میڈیا چینل یا صحافی ہے جو اتنا بڑا رسک لے گا. اگر کوئی پھر بھی باز نہ آئے تو سلیم شہزاد کی مثال سامنے ہے.
پاکستان میں اس وقت درجنوں نیوز میڈیا چینل ہیں جن پر کم از کم ایک investigative journalism کا پروگرام تو نشر ہوتا ہی ہے. کبھی کسی چینل پر آپ نے کسی ایسے خاندان کی کہانی سنی ہے جس کا جوان بیٹا یا شوہر غائب ہو؟ کسی ایسے شخص کی روداد دردناک بیک گراؤنڈ میوزک اور اس کے معصوم بچوں کے سسکتے بلکتے چہروں کے ساتھ جو غائب رہنے کے بعد واپس آیا ہو؟ اب تو ریاست خود مان چکی ہے کہ لوگ غائب بھی کیے جاتے ہیں اور ان کو چھوڑا بھی جاتا ہے. اگر میڈیا اتنا ہی آزاد ہے تو ان کی کہانیاں کیوں ہر جگہ پہنچ جانے والے میڈیا کی زینت نہیں بنتیں؟ وجہ صاف ہے. یہ ریاست کی سرخ لکیر ہے جسے پار کرنے کی میڈیا کو اجازت نہیں. میڈیا اس کی پابندی کرتا ہے.
اسی طرح ساہیوال واقعہ پر کتنے 'سر عام' دیکھے آپ نے؟ ایبٹ آباد واقعے پر کتنی تحقیقاتی ڈاکومنٹری فلمیں ہمہ وقت بیدار اور ہر وقت دستیاب میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آئیں؟ درجنوں مثالیں ہیں جو اس ضمن میں دی جا سکتی ہیں. مقصد صرف یہ سمجھانا ہے کہ میڈیا ریاستی اصولوں کا پابند ہے. حکومت کو رگڑا لگانا، اس تنقید کرنا، نت نئے شگوفے چھوڑنا، یہ سب میڈیا کو دی گئی گائیڈ لائن میں ہر گز ممنوع نہیں ہے.
اب اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میڈیا حکومت پر تنقید کرتا ہے اور یہ اس کی آزادی کی دلیل ہے تو اسے آپ کی ناسمجھی یا بچپنا ہی کہا جا سکتا ہے. ٹاک شوز میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا، لتے لینا، شغل میلہ لگانا، وغیرہ عوام کو مصروف رکھنے کے طریقے ہیں جو مکمل طور پر میڈیا فریم ورک کے اندر ہیں. ان کو سنجیدہ نہ لیا کریں. مشاہدہ بڑھائیں اور مطالعہ وسیع کریں. انشاءاللہ افاقہ ہو گا.
از قلم - عجیب سین ہے بھائی!


No comments:
Post a Comment