COVID-19
گزشتہ چند مہینوں سے دنیا ایک نئے بحران کا شکار ہے چین کے شہر ووہان سے شروع ہو نے والے اس بحران نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اور یہا ں مجھے انسان کی بے بسی دیکھ کے لگتا ہے الللہ قیامت سے پہلے ہی پوچھ رہا ہے کہاں ہے بادشاہ -
لیکن یہاں ہم یہ بات بھی کرتے چلیں۔ کائنات کی ہر تخلیق الللہ کی مرضی کے بغیر پیدا نہیں ہوتی خواہ وہ کوئی بیماری ہو یہ کسی کا کسی خاص وقت کے بعد شفایاب ہونا یہ الللہ کی ہی طرف سے ہوتا ہے ۔ہمارہ ایمان ہے کہ کوئی بیماری الللہ کی مرضی کے بغیر کسی دوسرے کو لگنے تو دور کی بات چھو بھی نہیں سکتی اور ایک بات موت کا وقت مقرر ہے اس میں کوئی ردو بدل نہیں کر سکتا اب بات کرتے ہیں انسان کی جو چند مہینوں پہلے یہ کہہ رہا تھا کہ اس نے ٹیکنالوجی کی مدد سے نہ صرف اوسطنا عمر میں اضافہ میں کیا ہے بالکہ اب وہ انسان کے کی مشکلات کو مکمل کنٹرول کر سکتا ہے ۔ جب سے دنیا
بنی ہے کئی وبا آئی اور چلی گئی کچھ کا تو الللہ نے انسان کو علم دے دیا کچھ کا نہیں لیکن انسان کو میرا الللہ نے جب کوئی علم دیا تو وہ تکبر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ۔وہ سارہ اسی کی محنت کا نتیجہ ہے لیکن وہ یہ سوچنے سے قاصر ہے کہ پہلے کتنا لاچار تھا ۔یہاں پر میرہ ایک سوال ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اب ہم نیں ٹیکنالوجی کی مدد سے اوسطنا عمر بڑھا لی ہے اب وہ کہاں ہیں۔اور جو یہ کہتے تھے ہم سمندر کے نیچے تک دیکھ سکتے ہیں ٹیکنالوجی۔ کی مدد سے اور وہ لوگ بھی کہاں ہیں جو اس کے آگے سجدہ ریز تھے اور باقی لوگوں کو کہتے تھے کہ وہ تو بیوقوف ہیں اصل میں تو ساری طاقت انسان خود ہے ۔اور بجائے الللہ کے آگے جکنے کہ ہم ٹیکنالوجی کے آگے سجدہ ریز ہو تے تھے ۔آخر میں میں یہی کہنا چاہوں گا کہ ہماری بقا اسی میں ہے کہ ہم اسی کے آگے جکیں جسں نے نہ صرف ہمیں پیدا کیا بالکل
موت دینے کے بعد ایک بار پھر پیدا کرے گا-اور الللہ کا برکت والا مہینہ تو ہے ہی اسں سے فائدہ اٹھائیں اور اجتماعی توبہ کریں۔
اور الللہ ہمیں ان بدنصیبوں سے بچائے جن کو سب نشانیاں الللہ واضح کرتا ہے لیکن وہ پھر بھی اپنی انا میں رہتے ہیں۔اور بجائے جو الللہ نے انسان کی بہترین زندگی کیلئے جو حد مقرر کی ہے اس پر عمل کرتے بلکہ وہ مزاق اڑاتے ہیں۔


No comments:
Post a Comment